نئی دہلی،2 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی دیوریا سے دہلی تک کی یاترا کو لے کر پارٹی کے سینئر لیڈر پی ایل پونیا نے آج دعوی کیا کہ راہل کی اس یاترا سے پارٹی نہ صرف مقابلے میں آ گئی ہے، بلکہ اقتدار کی دعویدار کے طور پر ابھرکر سامنے آئی ہے۔کانگریس کے قومی ترجمان پونیا نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں کہاکہ راہل کی اس یاترا سے پہلے لوگ یہ مان کر چل رہے تھے کہ کانگریس اتر پردیش کے انتخابات میں کہیں مقابلے میں بھی نہیں ہے، مگر اب ایسا نہیں ہے، اس یاترا نے زمینی سطح پر پوزیشن کو تبدیل کر دیا ہے۔اب کانگریس نہ صرف مقابلے میں آ گئی ہے، بلکہ اقتدار کی دعویدار بھی بن گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کانگریس کو ووٹ دینے والے بہت سارے لوگوں کے دل میں یہ خیال تھا کہ یہ پارٹی ریاست کے اقتدار میں نہیں آئے گی۔راہل جی کی اس یاترا سے یہ تاثر بھی بدل گیا ہے۔ان کی یاترا کے دوران سڑکوں اور جلسوں میں لوگوں کی بھیڑ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔راہل کی یہ یاترا ستمبر کے پہلے ہفتے میں اتر پردیش کے دیوریا ضلع سے شروع ہوئی۔تقریبا 2500کلومیٹر کا سفر اگلے چند دنوں میں دہلی کے قریب ایک اجلاس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا ۔اس یاترا کے دوران راہل بنیادی طور پر کسانوں، دلتوں، اقلیتوں اور برہمنوں کو کانگریس کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کئی مقامات پر ’کھاٹ سبھا ‘ بھی منعقد کی ہیں ۔پونیا نے کہاکہ اتر پردیش کی تمام اہم پارٹیوں کے لیڈروں کو دیکھ لیجئے۔سوائے پریس کانفرنس اور بیان بازی کے وہ کچھ نہیں کر رہے ہیں ۔عوام سے ان کی کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہے لیکن راہل گاندھی اکلوتے ایسے لیڈر ہیں جو عوام کے درمیان میں ہیں اور ان کے مسائل سن رہے ہیں، عوام بھی اس کو دیکھ رہی ہے۔